اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کی عوامی رضاکار فورس کے ایک کمانڈر کاظم الرکابی نے بتایا کہ تکریت میں گرفتار کئے گئے داعش کے تیرہ دہشت گردوں نے اعتراف کیا ہے کہ اسپائکر فضائی چھاؤنی میں فوجی کیڈٹوں کا قتل ایک عورت کے حکم پر کیا گیا جو خانم کے نام سے مشہور تھی- عراق کی عوامی رضاکارفورس کےعہدیدار کاظم الرکابی کا کہناہے کہ اس سلسلے میں کہا جارہاہے کہ یہ عورت صدام کی بیٹی ہے لیکن جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتیں اس وقت تک صحیح طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا- واضح رہےکہ گذشتہ برس جون میں صوبہ نینوا کے مرکز موصل اور عراق کے کئی دیگرصوبوں پر داعش نےحملہ اور قبضہ کرلینے کے بعد تکریت کے قریب اسپائکر فضائی چھاؤنی میں موجود سترہ سوکیڈٹوں کوجو فضائیہ کی ٹریننگ حاصل کررہے تھے قتل کردیاتھا - ان سبھی کیڈٹوں کی عمریں بیس سال کے اندر تھیں-عراق کی عوامی رضاکار فورس کے مذکورہ کمانڈر کا کہنا ہےکہ تکریت کے قریبی علاقے الدور میں ایک اجتماعی قبر کا انکشاف ہوا ہے اور ممکن ہے کہ اس میں انہی کیڈٹوں کی لاشیں ہوں - عوامی رضار کارفورس کے کمانڈر کاظم الرکابی نے کہا ہے کہ مواصلاتی ذرائع پر کنٹرول حاصل کرلینے کے بعد اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ تکریت میں داعش کی صفوں میں بعثیوں کے بہت سے کمانڈر موجود ہیں - انہوں نے کہا کہ داعش کی صفوں میں موجود بعثی کمانڈروں میں صدام کا بھتیجا ابراہیم السعادہ بھی شامل ہے -
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲